ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوجوت سنگھ سدھو کی دور ہوئی ناراضگی، راہل گاندھی احمد پٹیل سے کی ملاقات ،ملی ذمہ داری

نوجوت سنگھ سدھو کی دور ہوئی ناراضگی، راہل گاندھی احمد پٹیل سے کی ملاقات ،ملی ذمہ داری

Mon, 08 Apr 2019 21:25:04    S.O. News Service

نئی دہلی،08؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پنجاب کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو گزشتہ کچھ دنوں سے سارے کام چھوڑ کر خاموشی سے بیٹھے تھے۔ان کا کانگریس میں کسی رہنما سے کوئی رابطہ بھی نہیں تھا۔ایسی معلومات ان سے وابستہ ذرائع نے دی تھی۔حالانکہ نوجوت سنگھ سدھو کی ناراضگی اب دور ہو گئی ہے۔سدھو نے ہفتہ کو کانگریس صدر راہل گاندھی اور اتوار کو پارٹی کے سینئر لیڈر احمد پٹیل سے ملاقات کی۔پنجاب کی امریندر سنگھ حکومت میں وزیر نوجوت سنگھ سدھو نے اتوار کو ٹویٹ کر کہا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے انہیں لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے لئے تشہیرکرنے کو کہا ہے۔سدھو 10 اپریل سے 40 دن تک پارٹی کے لئے تشہیر کریں گے۔ نوجوت سنگھ سدھو نے اتوار کو ٹویٹ کیاکہ کانگریس صدر راہل گاندھی جی سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے مجھے ہدایت دی کہ دھواں دھار تشہیرکروں اور پروگرام کے وسیع تفصیلات کے لئے احمد پٹیل سے مل لوں۔تشہیر10 اپریل سے شروع ہو جائے گی۔ 40 دن تک چلے گی ۔بتا دیں کہ سدھو کی کانگریس سے ناراضگی کی وجہ بیوی نوجوت کور کو ان کی پسند کی چنڈی گڑھ سیٹ سے ٹکٹ نہیں ملنے کو لے کر تھی۔ٹکٹ دینے سے کانگریس نے انکار کر دیا۔اس سیٹ سے کانگریس نے سینئر لیڈر پون بنسل کو امیدوار بنایا گیا ہے۔پہلے بحث تھی کہ نوجوت کور کو امرتسر سیٹ سے ٹکٹ دیا جا سکتا ہے، جہاں سے امریندر سنگھ نے سال 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ارون جیٹلی کو شکست دی تھی۔لیکن ان کی بات چیت پر اس وقت لگام لگی جب کانگریس نے امرتسر لوک سبھا سیٹ سے گرجیت سنگھ اوجلا کو ٹکٹ دے دیا۔سال 2014 میں امرتسر سے ارون جیٹلی کو امیدوار بنائے جانے کے بعد نوجوت سنگھ سدھو نے بھارتیہ جنتا پارٹی چھوڑ دی تھی۔سدھو نے پنجاب اسمبلی انتخابات سے پہلے کانگریس پارٹی کا ہاتھ تھام لیا تھا۔بتایا جا رہا ہے کہ موگا میں کانگریس صدر راہل گاندھی کی ریلی میں انہیں بولنے کے لئے مدعو نہیں کرنے پر بھی وہ ناراض تھے۔اس کے ساتھ ہی ان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وہ اس بات سے بھی ناراض ہیں کہ وہ چھتیس گڑھ کے لئے پارٹی کے اسٹار پرچارک کی فہرست میں نہیں ہیں حالانکہ وہ ملک بھر میں انتخابی تشہیر کی مانگ میں بنے ہوئے ہیں۔


Share: